دشتِ لوط، ایران: دنیا کا سب سے گرم ترین مقام - Public News - Justwatch.pk

دشتِ لوط، ایران: دنیا کا سب سے گرم ترین مقام

dasht e lut in iran
Ninaras, CC BY 4.0, via Wikimedia Commons
 

دشتِ لوط نامی بے آب و گیاہ ریگستان ایران میں واقع ہے۔ یہ دنیا کے پچیسویں بڑے صحرا کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ چند اطلاعات کے مطابق یہ پتا چلتا ہے کہ یہ دنیا کے گرم ترین مقامات میں سے ایک جگہ ہے اور یہاں کا درجہ حرارت 70 درجے سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔آپ درجہ حرارت سے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کتنی گرم جگہ ہوگی۔


فارسی زبان میں لوط (لوت) کسی بے آب و گیاہ بیابان کو کہا جاتا ہے۔ سائنسدانوں کہتے ہیں کہ کروڑوں برس قبل یہ ایک سمندری فرش تھا جو ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکات کے سبب اوپرآگیا۔ آہستہ آہستہ اس کا پانی بخارات کی شکل میں غائب ہوتا چلا گیا اور اب وہاں  ایک نمک بھرا میدان ہی باقی رہ گیا ہے۔


یہ  علاقہ52 ہزار مربع کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے جہاں بحیرہ عرب اور دریائے اوقیانوس سے ہوا نہیں پہنچ پاتی۔ اس کے سبب یہاں گرمیوں میں  قدم رکھنا ایسا ہی ہے جیسا کہ جلتے ہوئے انگاروں پر پیر رکھنا۔بیشک امریکی ڈیتھ ویلی نے کیلیفورنیا کے بعض ویرانوں، لیبیا میں العزیزیہ اور ایتھیوپیا کے ایک مقام کو دنیا کے گرم ترین مقامات کا نام دیا ہے لیکن دشتِ لوت میں سب سے زیادہ درجہ حرارت کی تصدیق تو خود ناسا نے بھی کی ہے۔


2003 سے 2010 کے دوران ناسا نے اپنے ایکوا سٹلایئٹ کی مدد سے دنیا کے مختلف مقامات کا درجہ حرارت نوٹ کیاتھا۔ 

2005 میں جب ایکوا نے دشتِ لوط کا درجہ حرارت نوٹ کیا تو اُس وقت 70.7 درجے سینٹی گریڈ تھا۔


یہاں کا سب سے گرم علاقہ گندم بریان  ہے کیونکہ 480 مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے اس علاقے پر موجود آتش فشانی عمل سے پیدا ہونے والے سیاہ پتھر سورج کی روشنی کو جذب کرتے ہیں اور تپ کر کوئلے کی طرح گرم ہوجاتے ہیں۔ فارسی میں گندم بریان کو پکی ہوئی گندم کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر یہاں گندم کو بکھیرا جائے تو وہ چند روز میں ہی پک جائے۔


 گرم ترین مقام ہونے کے باوجود یہاں پر تمام ترسختیاں سہ کر زندہ رہ جانے والے پودے بھی موجود ہیں جن میں 10 فٹ بلند درخت بھی شامل ہیں۔ ناسا کہتا ہے کہ اگر یہاں گرمیوں میں پتھر پر انڈہ پھینکا جائے تو وہ پک جاتا ہے۔



کوئی تبصرے نہیں: